کالج سے یونیورسٹی کا سفر

کالج سے گھر کا سفر ظاہری طور پہ تو سوا گھنٹے کا ھا لیکن اس راستے کی مشابہت وقت کے ساھ نہین بلکہ ان دشواریوں سے ھیں جن کو مہارت سے عبور کرکے اگلی منزل کی طرف پھنچے۔

پڑھائی۔۔ پڑھائی اور صرف پڑھائی۔۔ یہ مہز الفاظ نہین بلکہ ہر طالب علم کی زندگی کی کتاب کے وہ ورق ہیں جو وہ کبھی دوبارہ کھولنا گوارا نیہن کرے گا۔وہ صبح کو اما کا مشکوک شخص کی طرح کمرے میں گَُسکر بیچاری نیند کو ترپانہ ، کالج کا وہ آواراپن، اساتذہ کی مار، گھر کا کام نہ کرنے پہ کلاس کے باہر نکالے جانا، لیٹ آنے پہ میڈم جی سے خوب حوصلہ افضائی کروانہ، اور پتہ نہین کتنے کارنامے اس مختصرسے وقت میں اپنے نام کیئے۔

اتنا ہی نہین ، جب امتحانات کا دنگل سجنے کو ہوتا تو سارے کلاسز معجزاتی طور پہ آباد ہونا شروع ہوجاتے اور وہ سارے لوگ جن کو شاید زمین نگل گئی ھی یا اسمان کھاگیا ھا، اپنی حاضری کو یقینی بنانے کی جہدوجہد میں مگن دیکھائی دیتے۔

 

بارحال۔۔ اللہ اللہ کر تے کرتے اس عزیعت سے جان چھرائی۔

اور اس امید سے یونیورسٹی میں داخلا لینے کا ارادہ کیا کہ باآخر پڑھائی کے ساھ  کچھ سکون کی زندگی گزارنے کا موقعہ ملےگا۔ یہ کہنا کم نہین ہوگا کہ “آسمان سے گرے اور خجور میں اٹکے ” ۔ کمبخت کس کو معلوم ھا یونیورسٹی میں آکر اک دوسری مصیبت کو دعوت دی۔ بڑی مشکل سے جسے جان چھرائی ھی ایک بار پھر ہمارے سامنے آگئی۔ کالیج میں تو امتحانات کے پرچے اور نتائج دونو باہر سے شائع ہوتے ھے اور یہئ وجہ ھی کافی طالب علم اساتذہ کے ظلم و ستم سے محفوظ ھے لیکن یہاں پہ تو الٹی گنگا بہ رہی ہے۔ پرچے خود ہی تیار کرتے، ٹائم ملے تو چیک بھی خود ہی کرتے اور یہی نہیں حضور اگر دل چاہے تو بغیر پرچہ دیکھے کامیاب کرار دے دیں۔

  یہاں پہ تو بھائی ہمارا کوئی پرسانے حال نہیں اور ہم بے یاروں مددگار اساتذہ کی ہر بات کو پتھر پر لکیر سمجھکر، ماننے کے پابند ہیں اور کیوں نا ہو وہی تو ہیں جن کے پاس ہمارے مستقبل کی زنجیر بندھی ہوئی ہے۔

 

بارحال کالیج سے یونیورسٹی کا سفربلہے ہی ناگوار گزرا ہو ، یہ لمحے دوبارہ آپ کی زندگی  کے دروازے پہ دستخ نہیں دینگے اور آپ کے پاس سوائے ان لمحوں کو یاد کرنے کے علاوہ کوئی اور چارا نہیں۔ یہی وجہ ہے جناب ہم ہر پَل کو کُھلے دل اور مہکتی مسکراہت کے ساھَ خوش آمدید کہتے ہیں کیوں کہ ہمارے پیارے نبیؐ کا فرمان ہے اگر کوئی تم سے بڑا کریں تو تم بدلے میں اس سے پیار کروْ۔