سنہرے خواب

تحریر: اسد علی میمن آسمان کو چھونے کی خوائش ہر انسان کے دل میں ازل سے موجود ہوتی ہے جسے وہ حاصل کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگاتا ہے اور اسی کشمش میں وہ دن رات ایک کرکے اپنی محنت و لگن سے ایک اسی سیڑھی تیار کرتا ہے جس پہ چھڑ کروہ بلندیوں کا سفر باآسانی طے کر سکے۔ اس سیڑھی کی شروعات ایک سنہرے خواب سے شروع ہوتی ہے اور ہر گزرتے وقت کے ساھٓ اس میں مختلف خوابوں کے پائے جڑنا شروع ہوجاتے ہیں جو اسے مضبوط اور لمبا بناتے ہیں۔ اور اسکا اختتام ایک ایسا سفر ہے جسکی کوئی منزل نہیں جیسا کے غالب نے کہا

                                                ہزاروں خوائش کہ ہر خوائش پہ دم نکلے

                                                بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

 

خواب ہر انسان دیکھتا ہے اور کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو جاگتی آنکھوں سے دیکھے جائے اور ان خوابون کو حقیقت کا رنگ دینے کے لئے مسلسل اور انھحک محنت کی ضرورت ہوتی یے۔ ورنہ وہ خواب ،خواب ہی رہجاتے یہں اور حقیقت کا روپ کبھی نہیں دھار سکتے کیونکہ حقیقت بہت تلخ ہوتی ہے اور اسے آپ کھلی آنکھوں سے دیکھیں یا بند آنکھوں سے انکی تلخی کبھی شیرنی میں نہیں بدلتی۔ لہٰذا اس سیڑھی کو انسان محنت و جذ بے کے ساھٓ ساھٓ صبروتحمل اور خوش اخلاقی کے ساھٓ پار کرئے تو کوئی خاص مشکل نہیں ۔ آج کا انسان جذ بات اور جلدبازی کا شکار ہے۔ جہاں صبرکی ضرورت ہوتی ہے وہاں جلد بازی بنا بنایا کام بگار دیتی ہے اور ایک جھٹکے سے زمین کی اھٓاہ گہرائیوں میں پہنچا دیتی ہے۔ جزبات کا بھی کچھ کم اثر نہیں ہوتا، ہمدردی اور شائستگی جذ بات کے نیچے کچل دیئے جاتے ہیں ۔ اور اسکی جلد بازئ  ہی اسکے نقصان کا باعث بن جاتی ہے۔

 

انسان اپنی غلطیوں سے ہی سکھتا ہے ، یہ کہاوت تو عام ہے لیکن ہمارے یہاں لوگ سکھنے کے علاوہ ہر کام کرتے ہیں۔ غلطیوں پہ غلطیوں اور پھر اس کا اقرار بغیر کسی ندامت و عار کے، اب عام بات ہوگئی ہے۔

اگر ہم دنیا کے عظیم لوگوں کی ایک فہرست بنائیں تو ان سارے لوگوں میں کم از کم ایک بات عام ہے، ان میں ایسی خوبی ہوتی ہے جو نہ ہارنے دیتی ہے نہ تکبر کا شکار کرتی ہے۔ اور کامیابی کا سفر ہزاروں تقلیفوں ، مشکلاتوں ، رکاوٹوں سے نکل کر باآخر ایک عظیم الشان منزل پہ آکر ھۃم جاتا ہے۔

 

ہر انسان کے اندر ایک نہ ایک ایسی خوبی ہوتی ہے جس کے استعمال سے وہ اس سیڑھی کو باآسانی طے کرتے اوپر جاسکتا ہے بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خوبی کو باوقت پہچان لیا جائے اور اس میں مہارت حاصل کی جائے۔ ناکامی کبھی رکاوٹ ہے نہ مشکل مرحلہ جسےانسان کو گزرنا ہو لیکن کامیابی تو ناکامیوں کی سیڑھی سے ہی ملکر بنتی ہے، بغیر کسی ناکام تجربے کے کبھی سائنسدانوں نے ایجداد نہیں کیں۔

 

لہٰذا ناکامی کو ایک سبق کی حد تک ہی محدود کرنا فائدے مند اور عقل مندی ہے۔ امید ہے آپ اس لگن کو جاری و ساری رکھیں گے، کیونکہ اللہ تعالٓی کا فرمان ہے۔

                                                            “انسان کو ویہی کچھ ملتا ہے جسکے وہ کوشش کرتا ہے”